جم[2]

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - تعداد کثیر، ہجوم، گروہ، اژد ہام، جمگھٹ، انبوہ، بھیڑ۔ "صبح سے رات تک خوشامدیوں کے جم اکٹھے ہونے لگے۔"      ( ١٨٧٦ء، سراب حیات، ٤٣ )

اشتقاق

عربی زبان میں اسم ہے۔ اور ثلاثی مجرد کے باب کا مصدر بھی ہے اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور اصلی معنی میں ہی مستعمل ہے اور خاص طور پر مرکبات میں مستعمل ہے ١٨٩٩ء میں "حیات جاوید" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - تعداد کثیر، ہجوم، گروہ، اژد ہام، جمگھٹ، انبوہ، بھیڑ۔ "صبح سے رات تک خوشامدیوں کے جم اکٹھے ہونے لگے۔"      ( ١٨٧٦ء، سراب حیات، ٤٣ )

اصل لفظ: جمم
جنس: مذکر